خبریں
جامعہ دارالعلوم سکھر میں نئے سیشن کے داخلے جاری ہیں — درسِ نظامی، حفظ اور تعلیمِ بالغاں کے لیے رابطہ کریں۔ سہ ماہی ’’العلم سکھر‘‘ کا تازہ شمارہ بھی شائع ہو چکا ہے۔   •   جامعہ دارالعلوم سکھر میں نئے سیشن کے داخلے جاری ہیں — درسِ نظامی، حفظ اور تعلیمِ بالغاں کے لیے رابطہ کریں۔ سہ ماہی ’’العلم سکھر‘‘ کا تازہ شمارہ بھی شائع ہو چکا ہے۔
English|سنڌي|اردو|العربية
1448 / ربــيـــع الأول / 18 || Tuesday - 01st / September / 2026

جامعہ کا تعارف

مکمل معلومات

جامعہ کا تعارف

مرکز تعلیم و تربیت، جامعہ دارالعلوم سکھر، دینی درس گاہوں کے اس تاریخی تسلسل کی ایک کڑی ہے جس کی ابتدا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے قریب اصحابِ صفہ کی تعلیم و تربیت کے لیے قائم فرمائی تھی۔

صفہ کی نورانی کرنوں نے عالم اسلام کے ہر خطے کو ایمانی اور علمی روشنی عطا کی۔ باب الاسلام سندھ نے بھی پہلی صدی ہجری ہی میں اس علمی روایت سے روشنی حاصل کرکے ایمان، علم، تعلیم اور تربیت کے روشن نمونے دنیا کے سامنے پیش کیے۔

1857ء کے بعد دارالعلوم دیوبند کے قیام سے سندھ میں دینی مدارس کا سلسلہ دوبارہ مستحکم ہوا۔ جامعہ دارالعلوم سکھر، سندھ کے قدیم علمی مراکز اور دارالعلوم دیوبند کے علمی و فکری تسلسل کا حصہ ہے۔

جامعہ دارالعلوم سکھر کی بنیاد 1428ھ بمطابق 2008ء جامع مسجد عثمانیہ، بیراج کالونی سکھر میں رکھی گئی۔ 2015ء سے گورنمنٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں کیمپس 2 پر بھی تعلیم جاری ہے۔

جامعہ کے اهداف ومقاصد

اسلامی معاشرے کے لیے مدرسے کا قیام ناگزیر ہے۔ اسلامی تاریخ کے روشن ادوار میں ان اداروں نے تعلیم کے ساتھ تربیت، علم کے ساتھ عمل اور تدریس کے ساتھ عملی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔

جامعہ دارالعلوم سکھر کے اہم اہداف و مقاصد یہ ہیں:

(1) ایسے علماء و فضلاء تیار کرنا جو علمی کمال، دینی اقدار، جذبۂ عمل اور حسن اخلاق سے آراستہ ہوں۔

(2) علم کے ساتھ عمل اور تعلیم کے ساتھ تربیت کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے طلبہ کی زندگی میں نیک عمل اور اسلامی روح پیدا کرنا۔

(3) طلبہ کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تحریر و مطالعہ اور جدید علوم سے آراستہ کرنا۔

(4) نئی نسل کو مذہب کے قریب کرنا اور دینی اقدار سے روشناس کرانا۔

(5) سندھ کے اکابر علماء کے علمی ذخیرے کو تحقیق و تدوین کے بعد منظر عام پر لانا۔

طلبہ کے لیے قواعد

1– علم حاصل کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو؛ سب سے پہلے اپنی نیت درست کیجیے۔
2– علم کے ساتھ عمل اور اخلاق کی اصلاح ضروری ہے؛ نماز اور تکبیر اولیٰ کا اہتمام کیجیے۔
3– اپنی وضع قطع علماء جیسی رکھیے اور فیشن پرستی سے بچیے۔
4– اسباق میں حاضری اور تعلیمی اوقات کی پابندی ضروری ہے۔
5– اساتذہ اور علماء کا احترام لازم ہے۔
6– رہائش کے لیے مختص جگہ ہی پر رہنا لازم ہے۔
7– جامعہ میں صفائی کا خیال رکھیے۔
8– ناظم دارالاقامہ کی اجازت کے بغیر باہر رہنا منع ہے۔
9– گھومنے پھرنے کے لیے مقررہ وقت میں اجازت لیجیے۔
10– کیمرا یا اسمارٹ فون رکھنا ممنوع ہے۔
11– ضرورت کے لیے سادہ موبائل رکھا جاسکتا ہے، مگر تعلیمی وقت میں بند رہے۔
12– چھٹی کے لیے ناظم اعلیٰ کو درخواست دیجیے۔
13– پانچ دن غیر حاضری پر داخلہ معطل اور دس دن پر اخراج ہوسکتا ہے۔
14– امتحانی فارم کے لیے تحریری اجازت ضروری ہے۔
15– اجازت کے بغیر ٹیوشن یا امامت منع ہے۔
16– جامعہ کی املاک کی حفاظت ضروری ہے۔
17– نظام کی پابندی اور فتنہ و فساد سے بچنا لازم ہے۔
18– مسلسل غیر حاضری، گستاخی یا عدم اصلاح پر نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔